Categories

Friday, April 20, 2012


I am your lover, come to my side, I will open the gate to your love.
Come settle with me, let us be neighbors to the stars. 


You have been hiding so long,
endlessly drifting in the sea of my love.


Even so, you have always been connected to me. 
Concealed, revealed, in the unknown, in the un-manifest.


I am life itself. You have been a prisoner of a little pond,
I am the ocean and its turbulent flood. Come merge with me,
leave this world of ignorance.


Be with me, I will open the gate to your love.

-Rumi

Saturday, April 14, 2012

For two three days, this line, "Ruk jana nahi tu kahin haar ke" has been coming to my mind. I never heard this song in its entirety before. But this evening when I listened to it, its like Kishore-Da knew exactly what to say. Thank you, Your Royal Vocalness. 

لوگوں کو انکا سب کچھ دے کے
تو تو چلا تھا سپنے ہی لے کے 


Friday, April 13, 2012

Today absorbed into Tomorrow



This song is the most valuable thing that my mother ever gave to me. She used to sing this to me every night... I used to be very talkative..talk to her for hours... but whenever she started singing this lullaby... I would close my eyes.. listen silently... and forget everything... No possession in the world can ever bring back that feeling... 


The video couldn't have been more relevant. As the young me looks back at my life... remembering my childhood... and the lullaby my mother sang. My mother used to tap me the same way while I listened and went to sleep.. The younger me sits at the edge of the balcony..and for a moment forgets about my own-self...and ponders about the selflessness of my mother's sacrifices... The tears coming out of eyes signifies the hardships and tragedies of those times while looking forward to a better tomorrow, just for the sake of the child..

My mother never sang the last stanza to me. But it couldn't more be relevant that the younger me is singing that now ... as the others look at me from afar... unaware...

Tuesday, April 10, 2012

Spring 2010. A call asking me to come back home. Clock hitting mid-night. Destination: Sharq, Kuwait City. Yahya on the wheel... a drive on Gulf Road. Yousef scrolls to a song I`ve never heard before..but exactly the one I could relate to, on his Xperia connected to the stereo. Me sitting in the back-seat like a boss...I`ll never forget that night...that drive...and that breeze. 

Sunday, April 8, 2012

اردو

اردو 


آج نہ جانے کیوں... اردو میں لکھنے کا جی چاہ رہا ہے . کہتے ہیں زبان تب تک زندہ رہتی ہے جب تک اسے بولا جائے .  ویسے میری اردو خود اتنی کوئی خاص نہیں، زیادہ تر پاکستانیوں کی طرح میں بھی ہر جملے میں انگریزی کے دو-تین الفاظ تو شامل کر ہی دیتا ہوں.

کہنے کو تو میں پنجابی ہوں...میرے والدین پنجابی ہیں اور انکی پہلی زبان بھی پنجابی ہے. میں پنجاب کے پوتوہری تحصیل راولپنڈی سے تعلق رکھتا ہوں.  اور اس  لہاز سے مجھے بولنی بھی پنجابی چاہیے.  پر آپ یہ قدرت کی کرنی کہئے یا میری اپنی پسند... جو احساس مجھے اردو کے لئے ہیں وہ کسی اور زبان کے لئے نہیں.

بچپن میں اور ٹیوی پی اکثر سنا ہے کے اردو دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے.مجھے تو اسکی تمیز، الفاظ اور طریقہ زیادہ دلفریب لگتے ہیں. افسوس، اسکول میں اردو کی کتاب کبھی سمجھ نہ آ سکی . اور "مرکزی خیال" سے زیادہ تو ہم لڑکے گالیاں سیکھنے پر قابلیت رکھتے تھے.

ہماری جماعت میں جو اردو کے استاد تھے انکا نام تھا جناب عبدل قدوس . ماشا الله
 سے انکا ٦ فوٹ سے کم کد نہیں تھا اور انکی صحت کا کوئی مقابل نہیں تھا. ایک دفع مہینے انسے پچا، "سر آپکی صحت کا راز کیا ہے؟" انہوں نے جواب میں کہا ،" ووہی جو تمہاری کمزوری کا ہے". شکر ہے وہاں لڑکیاں نہیں تھیں. خیر، زلفیں انکی جتنی ہی ریشم تھیں ، اتنا وہ زور سے اپنی گردن کو ایک جھٹکا دیا کرتے تھے... تاکے انکا پف کہیں آنکھوں کے سامنے نہ آ جائے. اب آتے ہیں انکے پڑھانے کے طریقے کی طرف ... ہماری اردو کی کتاب دو حصّوں پر مشتمل تھی. حصّہ-اول مضمون پر اور حصّہ-دوم نظموں پر. مجھے پہلے حصّے میں سے صرف ایک ہی مضمون کا نام یاد ہے، "چلتے ہو تو چین کو چلیے". خیر جب وہ نظموں پر ہے.. تب وہ ہر نظم کے ایک مصرے پر کم از کم ١٠-١٥ مناتے لگاتے تھے. اتنی تفصیل میں ایک شیر کو بیان کرنا، وہ بھی کھڑے ہو کر، اور وہ بھی بچوں کی فضول گفتگو کرنے کی بگیر پروا کیے... میری نظر میں اپنے کام   کےساتھ انصاف کرنا ہے. 

مہینے زندگی میں چیزوں پر افسوس کرنے سے گریز کرنا سیکھا ہے. پر مجھے اس چیز کا ہمیشہ افسوس رہیگا کے جب لایک لڑکیاں اپنی کاپیاں بھر رہی ہوتی تھیں، ...مہینے دو سالوں میں ایک دفع بھی استاد صاحب کے کلام پر غور نہیں کیا. مقصد انکی باتوں پر غور کر کے امتحان میں زیادہ نمبر لینا نہیں تھا... بلکے نقطہ یہ ہے کے انکو مختلف مضامین پر علم حاصل تھا اور دوسرا وہ ہر چیز کو کافی 
گہرایی اور ہر نظریے سے دیکھتے اور بیان کرتے تھے. 

خیر یہ گفتگو کہاں سے کہاں چلی گی. 

زندگی میں آپکو کیی شخصیت سے ملنے کا موقع ملتا ہے، جو آپکی شخصیت پر فرق ڈالتے ہیں ...ضروری نہیں کے وہ مکمّل ہوں ... کوشش یہی ہونی چاہیے کے انکی اچھی باتوں کو اپنا لیا جائے اور اگر فطرت اجازت دے تو عمل  بھی کر  لیا جائے ...